Thursday, September 26, 2013

Colocasia leaves curry رکوج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Colocasia leaves curry:
Colocasia leaves can be used as snacks as well. For this purpose, simply skip the curry the part from recipe and deep fry the rolls after cooking them on steam or serve them as it is with chilli garlic sauce.To make the Colocasia leaves rolls you will need:
Colocasia leaves : 1 dozen
White lentil :1 cup
Ginger: 1 inch piece
Cumin seeds:1 tea spoon
Red chilli powder: according to taste
Salt: as required
For curry:
Onion:2 medium size
Garlic: half bulb
Ginger:1/4th inch piece
Salt: as required
Red chilli powder: Upto your taste
Turmeric powder: Half tea spoon
Coriander powder:1 tea spoon
Fenugreek Seeds: 1 teaspoon
Oil: half cup
Dried Mango : 1 piece
Recipe:
Soak white lentils in water for two hours. Strain and blend to make fine paste. Add ginger garlic paste, red chilli powder, salt and cumin seeds to the paste and mix them well. Wash Colocasia leaves under running water and let them dry. Spread a leave on clean dry surface. Cover the leave with lentil paste. Place on other leave on the top of the coated leave. Repeat the procedure two times. Fold the leaves to make the roll. Repeat the procedure with the rest of the leaves. Steam them and cut into small pieces. To make the curry, add oil in a cooking pot and golden fry the fenugreek seeds. Make a smooth fine blend with all the ingredients except dried piece of raw mango. Add this mixture in the oil. Let it dry then stir it until it change the color and oil comes over the surface of the paste. Add 2 cups of water  and let it boil then add dried raw mango piece and Colocasia leaves rolls into it. Let it cook on low flame for two or 3 minutes. Serve with boiled rice or chapatti.

رِکوج ، اروی کے پتوں سے بنائی جانے والی ڈش ہے۔ آپ چاہیں تو اسے شوربے میں ڈالنے کی بجائے ڈیپ فرائی کرنے کے بعدکیچپ یا املی کی چٹنی کے ساتھ بھی پیش کرسکتی ہیں۔
رکوج کیلئے درکار اجزا:
اروی کے پتے ایک درجن
دھلی ماش کی دال ایک کپ
ادرک ایک انچ کا ٹکڑا
زیرہ ایک چائے کا چمچ
سرخ مرچ حسب ذائقہ

نمک حسب ذائقہ
گریوی کیلئے درکار اجزا:
پیاز درمیانے سائز کی 2 عدد
لہسن آدھی پوتھی
ادرک چوتھائی انچ کا ٹکڑا
نمک حسب ذائقہ
پسی سرخ مرچ حسب ضرورت
ہلدی آدھا چائے کا چمچ
پسی دھنیا ایک چائے کا چمچ
میتھی دانہ1 چائے کا چمچ
تیل حسب پسند
سوکھی کھٹائی ایک ٹکڑا
ترکیب:
ماش کی دال دو گھنٹے کیلئے بھگو دیں۔ پھر اسے بلینڈر یا سل پر باریک پیس لیں۔ زیرہ اور ادرک باریک پیس کے دال میں شامل کریں، نمک اور سرخ مرچ شامل کریں اور دال کو یکجان کرلیں۔اب اروی کے پتے دھوکے خشک کرلیں۔ پتے کی کھردری سطح کو اوپر رکھیں اور اس پر دال پھیلا دیں۔ اب دوسرا پتہ اس طرح رکھیں کہ اس کی کھردری سطح اوپر کی جانب ہو، اس پتے پر بھی دال پھیلادیں۔ ایک بار پھر یہ عمل دہرائیں اور پھر انہیں لپیٹ کے رول کی شکل دے لیں۔ اب ایک برتن میں پانی گرم کریں۔ اس کے اوپر ململ کا کپڑا باندھ دیں اور اس کے اوپر یہ رول رکھ دیں۔ اوپر سے ڈھکن ڈھانپ دیں اور کچھ دیر تک پکائیں۔پھر اس میں ماچس کی تیلی یا کانٹا چبھو کے دیکھیں اگر کانٹے پر دال لگی ہوئی ہو تو اسے مزید پکنے دیں ورنہ چولہا بند کردیں۔ تیز چھری سے رولز کے چھوٹے ٹکڑے کاٹ لیں۔ اب تیل گرم کریں، اس میں میتھی دانہ ڈالیں اور سنہری کریں۔ بلینڈر میں پیاز، لہسن اور ادرک پیس لیں۔ یہ آمیزہ تیل میں ڈالیں۔ اس میں سرخ مرچ، ہلدی، پسا دھنیا اور نمک شامل کریں اور اچھی طرح بھون لیں۔ پھر مناسب مقدار میں شوربہ رکھیں اور رکوج کے ٹکڑے کاٹ کے دم دے دیں۔

اگر شوربہ بنانے کی بجائے آپ اسے چائے کے ساتھ پیش کرنا چاہتی ہیں تو بھاپ پر پکانے اور ٹکڑے کرنے کے بعد انہیں بیسن کے آمیزے میں لپیٹ کےسنہری ہونے تک تلیں۔


Degi Biryani..........دیگی بریانی.

Biryani (Rice with Chicken)

Ingredients:
Rice :2 kg
Chicken:2 kg
Onion:5 large size
Tomatoes: 4 medium size
Garlic: 3 bulbs
Ginger :2 inch piece
Green chillies: 8-10
Mint leaves: 3 tablespoon
Red chilli powder:3 tablespoon or according to taste
Salt: as required
Cloves:  20-25
Black Cardamom: 5
Small Cardamom 12 pieces
Cumin seed 1 teaspoon
Black pepper:2 teaspoon
Dried nutmeg :1/4th piece
Dried mace: 1 tablespoon
Kewra: Few drops
A pinch of yellow color
Yogurt: 1 ½ cup
Oil for deep frying
Method:
Take a stock pot, add chicken, salt, red chilli, cloves, garlic paste and water as required. Cover it and let it cook until the chicken tenders. Remove the pan from heat. Deep fry thinly sliced onions, wait until it turns into golden brown then remove them from oil. Spread in a large dish and place it in airy place to make them crispy. With the help of hands, crush the golden brown onions, add tomato slices, mint leaves and  mix them hard with hands so that tomatoes combines with onion. Add this mixture to the cooked chicken. Add 6 small cardamoms, black cardamoms, black pepper, shredded ginger, cumin seeds, nutmeg and mace powder to the chicken stock. Beat the yogurt with kewra essence and food color and pour it in the pot of chicken stock. Add the oil, which once used for frying the onion slices. Turn on the heat and let it cook for almost 15 minutes. In another large pan, enough to carry the rice, add plenty of water, salt and the remaining small cardamoms and 4 tablespoons oil in it. Let it boil, add rice and wait until it starts boiling. Turn the pot into the strainer to get rid of the water.
Spread chicken and rice alternately in the pot, add lemon juice, kewra essence, and food color. Cover the lid in a towel and place it on the pot. Put some weight on the lid so that the lid may not move, put the flat pan on high heat then, place the pot on the flat pan. Let it cook on high heat for about 5 minutes, then slow down the flame and keep cooking for another 20 minutes. Don’t forget to turn around the pot while cooking at this stage.

Serve with yogurt and salad.

بریانی کی اس ترکیب سے آپ شرطیہ کراچی والی دیگی بریانی بناسکتی ہیں۔ باورچیوں کے پاس چونکہ مصالحے بھوننے کا وقت نہیں ہوتا  اس لئے اس ترکیب میں گوشت نہیں بھونا گیا ہے اور یقین جانیں گوشت کی بھنائی نہ ہونے سے ذائقہ پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ اس میں گرم مصالحے زیادہ مقدار میں استعمال ہوتے ہیں اس لئے عین ممکن ہے کہ   ان کا تناسب آپ کو حیران کردے لیکن یقین جانیئے کہ اس بریانی کا ذائقہ لاجواب ہوتا ہے اور جب کھانے والوں کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تیاری میں تیار شدہ مصالحوں کا کمال نہیں تو ان کی حیرت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
اجزا:
چاول دو کلو
چکن دو کلو
پیاز پانچ عدد بڑے سائز کی
ٹماٹر پانچ عدد درمیانے سائز کے
دہی ڈیڑھ پیالی
لہسن دو پوتھی
ادرک ڈیڑھ انچ کا ٹکڑا
پسی سرخ مرچ 4 کھانے کے چمچ
نمک حسب ذائقہ
لونگ بیس سے پچیس عدد
بڑی الائچی 6-5 عدد
سفید زیرہ ایک چائے کا چمچ
سبز الائچی12 عدد
ثابت کالی مرچ ایک کھانے کا چمچ
چوتھائی جائفل کا ٹکڑا
جاویتری ایک کھانے کا چمچ
پودینہ ایک گٹھی
ہری مرچیں آٹھ سے دس عدد
کیوڑہ چند قطرے
زردے کا رنگ دو چٹکی
تیل یا گھی ڈیپ فرائنگ کے لئے
ترکیب:پیاز کے باریک لچھے کاٹ لیں۔ لہسن باریک پیس لیں۔ ادرک کے لچھے بنالیں۔ اب ایک دیگچی میں گوشت، سرخ مرچ، نمک، لونگ اورلہسن شامل کریں اور اتنا پانی شامل کریں کہ جب گوشت گل جائے تو کم از کم دو پیالی یخنی موجود ہو۔ چکن کی صورت میں چکن گلنے پر اسے دیگچی سے نکال لیں اور بقیہ مصالحوں کو پکنے دیں تاکہ یکجان ہوجائیں۔یخنی تیار ہوجائے تو دیگچی چولہے سے اتارلیں۔ ایک کڑاہی میں تیل گرم کریں اور پیاز کے لچھے سنہری ہونے تک تلیں۔ خیال رہے کہ انہیں باریک چورا کرنا ہے اس لئے ان کی خستگی برقرار رہنی چاہئے۔  اس کیلئے پیاز کو تیل سے نکال کے کسی  سینی یاتھال میں پھیلا دیں اور ہوادار جگہ پر رکھ دیں کچھ دیر میں یہ مطلوبہ حالت میں آجائے گی۔ اب  اسے ہاتھوں کی مدد سے چورا کریں۔ اب باریک کٹے ہوئے ٹماٹر اور پودینہ بھی چورہ کی ہوئی پیاز میں شامل کریں۔ اور ہاتھوں کی مدد سے اتنا مسلیں کہ یہ  سب کچھ یکجان سا ہوجائے ، پھر اسے یخنی میں شامل کردیں۔ اب یخنی میں بڑی  الائچی، سبز الائچی 5 عدد، پسی ہوئی جائفل اور جاویتری، ثابت کالی مرچ، زیرہ، ادرک کے لچھے  اور ہری مرچ شامل کریں۔ دہی میں کیوڑہ اور زردے کا رنگ پھینٹیں اور یخنی میں شامل کریں۔ پیاز تلنے میں استعمال ہونے والے تیل کی اتنی مقدار اس یخنی میں شامل کریں جتنی کہ آپ دو کلو بریانی بناتے ہوئے استعمال کریں گی، یہ تقریبا چھ ڈونگے کے چمچ ہوگی۔ اب اسے چولہے پر چڑھادیں، آنچ درمیانی رکھیں تقریباً دس سے پندرہ منٹ میں سب چیزیں یکجان ہوجائیں گی، پھر چولہا بند کردیں۔دوسرے چولہے پر چاول کو ابالنے کے لئے کھلے منہ کے برتن میں پانی  گرم کریں اور اس میں 5 عدد الائچی، نمک4-3 چمچ اور تھوڑا سا تیل بھی شامل کریں۔ جب پانی کھول جائے تو بھیگے ہوئے چاول شامل کریں۔چاول کو بس ایک کنی ابالیں یعنی  پہلا ابال آتے ہی نتھار لیں۔اب چاول اور قورمے کی تہہ لگائیں۔ اوپر سے کیوڑہ، اور لیموں کا عرق چھڑ ک دیں۔ پتیلی کے ڈھکن پر موٹا تولیہ لپیٹ دیں تاکہ یہ بھاپ کو جذب کرسکے۔ ڈھکن ڈھانپ کے اوپر سے وزن رکھیں۔ پتیلی کے نیچے توا رکھیں اور تیز آنچ پر پانچ منٹ تک پکائیں پھر بیس منٹ تک دھیمی آنچ پر دم دیں۔ خیال رہے کہ پتیلی کو وقفے وقفے سے ہلاتی رہیں۔




Tuesday, September 24, 2013

White lentils with dried mints ........... شاہی ماش کی دال









White lentils with dried mint leaves

This recipe is best for those who want to loose weight.Due to small number of spices used in this recipe,it can be recommended for heart and blood pressure patients as well.
Now something about the background of this recipe: According to my Amma this came from the royal kitchens where the cooks were tested with this recipe though the method is simple but it is quite tricky to let the ghee (or oil) absorb in lentils.For preparation, you will need:

White lentils :1.5 cup
Onion: 1 medium size
Oil: half cup
Green chillies : 3-4 or according to taste
Ginger: 1 inch piece
Whole black pepper: 1 teaspoon
Dried mint leaves: 1 tablespoon
Salt: According to taste
Lemon: 1 piece

Method:
Soak the lentils in fresh water for two hours. Peel and slice the onion. Cut the ginger into small pieces. Shift the soaked lentils in cooking pan, add water, salt, whole black pepper and ginger in it. Let it boil. Wait until it softens then shift the lentils in strainer to get rid of  the extra water. Dish out lentils. Take a frying pan, add oil and onion into it. Wait until it turns into golden brown then spread it over the boiled lentils.Add lemon juice and garnish it with crushed dried mint leaves. Serve it with chapati and yogurt dip.


Note: You can use fresh mint instead of dried ones. You may serve this unique combination to heart patients.


کہتے ہیں کہ ماش کی دال کی یہ ترکیب شاہی باورچی خانوں سے عوام میں آئی ہے اور باورچیوں کا جب امتحان لینا مقصودہوتا تو انہیں اسی ترکیب کے مطابق دال پکانے کا کہا جاتا تھا۔ اسے بگھارے حیدرآبادی دہی بڑوں کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

                                                                                                                                    : اشیاء
                                                                                                               ماش کی دال ڈیڑھ پیالی
                                                                                                   پیاز درمیانے سائز کی ایک عدد
                                                                                                 ثابت کالی مرچ ایک چائے کا چمچ
                                                                                                                ادرک ایک انچ کا ٹکڑا
                                                                                                                        نمک حسب ذائقہ
                                                                                                                          گھی آدھی پیالی
                                                                                                    خشک پودینہ ایک کھانے کا چمچ
                                                                                        ہری مرچ تین سے چار عدد
 پانی حسب ضرورت
                                                                                                                                     :ترکیب
                                                                                                              
 پیاز کے لچھے کاٹ لیں، ادرک انتہائی باریک کتر لیں یا موٹا موٹا کوٹ لیں۔اب ماش کی دال تازہ پانی سے دھو لیں اور حسب ضرورت پانی میں دو گھنٹے کیلئے بھگو دیں۔ جب دال اچھی طرح پھول جائے تو اس میں ثابت کالی مرچ،باریک کٹی ہوئی ادرک اور نمک شامل کریں اور ابال لیں۔ جب دال گل جائے تو پانی نتھار دیں اور دال کو سرونگ ڈش میں نکال لیں۔ اب فرائنگ پین میں گھی گرم کریں اور اس میں پیاز کے باریک کٹے ہوئے لچھے سنہری ہونے تک تلیں اور دال پر ڈال دیں۔ پودینہ ہاتھوں کی مدد سے باریک مسل کے اوپر سے چھڑک دیں۔ چاہیں تو ادرک کے مزید لچھے اور ہری مرچ لیموں کےساتھ پیش کریں۔ یہ دال سادہ گرم چپاتی اور دہی کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔
نوٹ: اس دال کو ہائی بلڈ پریشر اور امراض قلب میں مبتلا افراد کو بھی پیش کیا جاسکتا ہے تاہم ایسی صورت میں صرف سنہری کی گئی پیاز ہی دال پر چھڑکیں اور گھی علیحدہ کرلیں۔


Monday, September 23, 2013

A quick vista at menu card اس دسترخوان پر دھرے پکوانوں کا مختصر تعارف

For me cooking is not only about feeding your family members, rather it is the unique way of expressing your emotions for them. You feed them, its your responsibility; you make them rejoice with your excellent combination of spices, it’s the state of ultimate satisfaction. Repeating the same routine of home chores while considering it as the duty only can fill your life with melancholy and despondency, but only few changes in your routine affairs may turn your day with joy and exultation and trying new and different methods of cooking is just another way of bringing freshness to your routine matters.


Most of the recipes shared here are typically considered as our traditional ones. I have tried to copy them as much original as possible. Try them as it is to have the typical taste of tradition.

سب سے پہلے تو مناسب یہی ہوگا کہ ہم سب کی یہ غلط فہمی دور کردیں گے کہ آٹھویں پیڑھی میں ہمارا تعلق خاندان چٹوراں سے جانکلتا ہے یا پھر یہ کہ ہمارا بچپن باورچیوں کے سائے میں گزرا ہے) اگر ایسا ہوتا تو یقیناً ہمارے دل کو نان سٹک برتنوں کے بجائے کالک پتی ہوئی دیگیں زیادہ بھاتیں)۔ اس کے باوجود بھی ہم کو باورچی خانے میں گھسے رہنا اور ہانڈیاں بھوننا کیوں پسند ہے اس سوال کا جواب فی الحال ہمارے پاس نہیں ہے البتہ پڑھنے والوں کو رائے زنی کی پوری پوری اجازت ہے۔ اس بلاگ کو بنانے کا مقصد بالکل بھی یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم وکی لیکس کی طرز پر شاہی مطبق کی سینہ بہ سینہ چلی آرہی خاص تراکیب کو شاہی لیکس کے نام سے طشت از بام کرنےکا ارادہ رکھتے ہیں نہ ہی ہم سراسر کھانے پینے سے تعلق رکھنے والے اس بلاگ کو کسی منافع بخش قسم کے بلاگ کی شکل دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مقصد صرف اتنا سا ہے کہ اماں، دادی اماں، نانی اور خاندان کی ڈھیروں بزرگ خواتین سے تراکیب سن سن کر جو ڈائریاں ہم نے بچپن سے آج تک بھر ڈالی ہیں ، انہیں آن لائن محفوظ کیا جائے۔یہ تراکیب خالصتاً ہمارے خاندانی طریقوں پر مبنی ہیں(للہ کاپی رائٹ والےاسے اپنی بے عزتی سمجھتے ہوئے ہمارے اوپر مقدمہ کرنے کا نہ سوچیں وہ چاہیں تو خود بھی ان تراکیب کو اپنی خاندانی تراکیب کہتے ہوئے اپنا ذاتی بلاگ بنا سکتے ہیں ہمیں چنداں اعتراض نہ ہوگا) ساتھ ہی ساتھ ہم نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ ان تراکیب کو انگریزی میں بھی محفوظ کرلیں انگریزی بھی تھوڑی بہتر ہوگی اور خاندان والوں پر تھوڑا رعب بھی پڑے گا۔